Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4929 (سنن أبي داود)

[4929]صحیح

صحیح بخاری (2535) صحیح مسلم (2180)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،عَنْ ہِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ, أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْہَا وَعِنْدَہَا مُخَنَّثٌ،وَہُوَ يَقُولُ لِعَبْدِ اللہِ أَخِيہَا-: إِنْ يَفْتَحِ اللہُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَی امْرَأَةٍ, تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ،وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: أَخْرِجُوہُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ. قَالَ أَبُو دَاوُد: الْمَرْأَةُ كَانَ لَہَا أَرْبَعُ عُكَنٍ فِي بَطْنِہَا.

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے اور دیکھا کہ ان کے ہاں ایک ہیجڑا ہے اور وہ ان (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا ہے کہ اگر کل اﷲ تمہیں طائف فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت کے متعلق بتاؤں گا جو چار سے آتی اور آٹھ سے لوٹتی ہے۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ تھا کہ عورت کے پیٹ پر (فربہ اندام ہونے کی وجہ سے) چار بل پڑتے ہیں۔(عورت کے پیٹ پر سامنے کی جانب سے چار بل اور جب پشت پھیرے تو پہلوؤں کی جانب سے یہی بل چار چار ہو کر آٹھ بن جاتے ہیں تو عرب میں عورت کا اس انداز سے فربہ اندام ہونا حسن سمجھا جاتا ہے۔)