Sunan Abi Dawood Hadith 4932 (سنن أبي داود)
[4932]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (3265)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ،حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ،أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ،قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاہِيمَ حَدَّثَہُ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ،وَفِي سَہْوَتِہَا سِتْرٌ،فَہَبَّتْ رِيحٌ فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ-لُعَبٍ-،فَقَالَ: مَا ہَذَا يَا عَائِشَةُ؟. قَالَتْ: بَنَاتِي! وَرَأَی بَيْنَہُنَّ فَرَسًا لَہُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ،فَقَالَ: مَا ہَذَا الَّذِي أَرَی وَسْطَہُنَّ؟،قَالَتْ: فَرَسٌ! قَالَ: وَمَا ہَذَا الَّذِي عَلَيْہِ؟،قَالَتْ: جَنَاحَانِ،قَالَ: فَرَسٌ لَہُ جَنَاحَانِ؟!،قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَہَا أَجْنِحَةٌ؟! قَالَتْ: فَضَحِكَ،حَتَّی رَأَيْتُ نَوَاجِذَہُ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک یا خیبر سے واپس تشریف لائے تو میرے طاقچے کے آگے پردہ پڑا ہوا تھا۔ہوا چلی تو اس نے پردے کی ایک جانب اٹھا دی تب سامنے میرے کھلونے اور گڑیاں نظر آئے۔آپ نے پوچھا ’’عائشہ یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: یہ میری گڑیاں ہیں۔آپ نے ان میں کپڑے کا ایک گھوڑا بھی دیکھا جس کے دو پر تھے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’میں ان کے درمیان یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟‘‘ میں نے کہا: یہ گھوڑا ہے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’اور اس کے اوپر کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: اس کے دو پر ہیں۔آپ ﷺ نے کہا ’’کیا گھوڑے کے بھی پر ہوتے ہیں؟‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے سنا نہیں کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے کے پر تھے؟ کہتی ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ اس قدر ہنسے کہ میں نے آپ ﷺ کی ڈاڑھیں دیکھیں۔