Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4933 (سنن أبي داود)

[4933]صحیح

صحیح بخاری (3894) صحیح مسلم (1422)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح،وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ،قَالَا: حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَائِشَةَ،قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ تَزَوَّجَنِي وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ أَوْ سِتٍّ،فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَ نِسْوَةٌ،-وَقَالَ بِشْرٌ: فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ-وَأَنَا عَلَی أُرْجُوحَةٍ،فَذَہَبْنَ بِي،وَہَيَّأْنَنِي،وَصَنَعْنَنِي،فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللہِ ﷺ،فَبَنَی بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ،فَوَقَفَتْ بِي عَلَی الْبَابِ،فَقُلْتُ:-ہِيہْ ہِيہْ-قَالَ أَبُو دَاوُد: أَيْ: تَنَفَّسَتْ-فَأُدْخِلْتُ بَيْتًا،فَإِذَا فِيہِ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ،فَقُلْنَ: عَلَی الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ. دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِہِمَا فِي الْآخَرِ.

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو میری عمر سات سال یا چھ سال تھی۔جب ہم مدینہ منورہ آئے تو چند عورتوں آئیں۔بشر بن خالد کے الفاظ ہیں: (میری والدہ) ام رومان آئیں۔جبکہ میں ایک جھولے پر تھی اور وہ مجھے لے گئیں۔مجھے تیار کیا،بنایا سنوارا اور رسول اللہ ﷺ کے ہاں بھیج دیا گیا۔میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو سال تھی۔(میری والدہ نے) مجھے دروازے پر کھڑا کر دیا تو میں نے کہا ((ہیہ ہیہ)) یعنی انکار کرنے کی آواز۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ اس کی وضاحت میں کہتے ہیں: یعنی میں نے لمبا (ٹھنڈا) سانس لیا اور مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا گیا تو وہاں انصار کی کچھ عورتیں تھیں۔انہوں نے دعائے خیر و برکت کے ساتھ میرا استقبال کیا۔حماد اور ابو اسامہ کی روایت ایک دوسرے میں مل گئی ہے۔