Sunan Abi Dawood Hadith 4951 (سنن أبي داود)
[4951]صحیح
صحیح مسلم (2144)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ ثَابِتٍ،عَنْ أَنَسٍ،قَالَ: ذَہَبْتُ بِعَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ-حِينَ وُلِدَ-،وَالنَّبِيُّ ﷺ فِي عَبَاءَةٍ يَہْنَأُ بَعِيرًا لَہُ،قَالَ: ہَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟،قُلْتُ: نَعَمْ،قَالَ: فَنَاوَلْتُہُ تَمَرَاتٍ،فَأَلْقَاہُنَّ فِي فِيہِ،فَلَاكَہُنَّ،ثُمَّ فَغَرَ فَاہُ،فَأَوْجَرَہُنَّ إِيَّاہُ،فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ. وَسَمَّاہُ عَبْدَ اللہِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب (میرے سوتیلے بھائی) عبداللہ بن ابوطلحہ کی ولادت ہوئی تو میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گیا۔جب کہ نبی کریم ﷺ ایک عباء پہنے اپنے اونٹ کو گندھک لگا رہے تھے۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا،جی ہاں۔اور میں نے آپ ﷺ کو کئی کھجوریں پیش کیں۔آپ ﷺ نے انہیں اپنے منہ میں ڈال کر چبایا،پھر بچے کا منہ کھول کر انہیں اس کے منہ میں ڈال دیا تو وہ اپنی زبان چلانے لگا۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’انصاریوں کی کھجور سے محبت! (یعنی دیکھو نومولود بھی کس چاہت سے کھا رہا ہے)۔اور آپ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔