Sunan Abi Dawood Hadith 4953 (سنن أبي داود)
[4953]صحیح
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البخاري فی الأدب المفرد (821) وتابعہ الولید بن کثیر عند مسلم (2142)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
-حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ،أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ،عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ, أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ سَأَلَتْہُ: مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: سَمَّيْتُہَا مُرَّةَ،فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ ہَذَا الِاسْمِ, سُمِّيتُ بَرَّةَ،فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمُ اللہُ أَعْلَمُ بِأَہْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ فَقَالَ: مَا نُسَمِّيہَا؟،قَالَ: سَمُّوہَا زَيْنَبَ.
جناب محمد بن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے اپنی بچی کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے بتایا کہ ’’برہ‘‘ (نیک،صالحہ) تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس نام سے منع فرمایا ہے۔میرا نام ’’برہ‘‘ رکھا گیا تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’اپنے آپ کو اپنے منہ سے نیک اور صالح نہ کہلواؤ۔اللہ تم میں سے نیک اور صالح لوگوں کو خوب جانتا ہے۔‘‘ پوچھا گیا: ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’زینب نام رکھو۔‘‘