Sunan Abi Dawood Hadith 4954 (سنن أبي داود)
[4954]إسنادہ حسن
مشکوۃ المصابیح (4775)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ،قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ،عَنْ عَمِّہِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ, أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَہُ: أَصْرَمُ،كَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللہِ ﷺ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا اسْمُكَ؟،قَالَ: أَنَا أَصْرَمُ،قَالَ: بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ.
سیدنا اسامہ بن اخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’اصرم‘‘ نامی ایک شخص اس وفد میں شامل تھا جو نبی کریم ﷺ کے ہاں آیا۔آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’میں اصرم (کانٹے والا) ہوں‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بلکہ تم زرعہ ہو‘‘ (بمعنی بونے اور کاشت کرنے والا)۔