Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4955 (سنن أبي داود)

[4955]إسنادہ حسن

أخرجہ النسائي (5389 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4766)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ،عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ شُرَيْحٍ،عَنْ أَبِيہِ ہَانِئٍ, أَنَّہُ لَمَّا وَفَدَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ مَعَ قَوْمِہِ سَمِعَہُمْ يَكْنُونَہُ بِأَبِي الْحَكَمِ،فَدَعَاہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ. فَقَالَ: إِنَّ اللہَ ہُوَ الْحَكَمُ: وَإِلَيْہِ الْحُكْمُ, فَلِمَ تُكْنَی أَبَا الْحَكَمِ؟،فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي،فَحَكَمْتُ بَيْنَہُمْ،فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ! فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَا أَحْسَنَ ہَذَا! فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟،قَالَ: لِي شُرَيْحٌ،وَمُسْلِمٌ،وَعَبْدُ اللہِ،قَالَ: فَمَنْ أَكْبَرُہُمْ؟،قُلْتُ: شُرَيْحٌ،قَالَ:: فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: شُرَيْحٌ ہَذَا: ہُوَ الَّذِي كَسَرَ السِّلْسِلَةَ،وَہُوَ مِمَّنْ دَخَلَ تُسْتَرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَبَلَغَنِي أَنَّ شُرَيْحًا كَسَرَ بَابَ تُسْتَرَ،وَذَلِك أَنْہُ دَخَلَ مِنْ سِرْبٍ.

سیدنا ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنی قوم کا وفد لے کر رسول اللہ ﷺ کے ہاں گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو سنا وہ اسے ’’ابوالحکم‘‘ کی کنیت سے پکارتے ہیں،تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا ’’حکم‘‘ (فیصلہ کرنے والا) اللہ ہی ہے (یہ اسی کا نام ہے) اور تمام فیصلے اسی کی طرف ہیں۔تمہیں یہ کنیت ’’ابوالحکم‘‘ کیونکر دی گئی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا: بیشک میری قوم والے جب کسی چیز میں اختلاف کرتے ہیں تو میرے پاس آ جاتے ہیں اور میں ان میں فیصلہ کر دیتا ہوں اور پھر دونوں راضی ہو جاتے ہیں۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔تیرے بیٹے کون ہیں؟‘‘ میں نے کہا: شریح،مسلم اور عبداللہ۔آپ ﷺ نے پوچھا ’’ان میں بڑا کون ہے؟‘‘ میں نے کہا: شریح۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’تو تم ’’ابوشریح‘‘ ہو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ شریح وہی ہیں جنہوں نے قلعہ تستر کی زنجیر توڑی اور اس میں داخل ہوئے تھے۔اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے تستر کا دروازہ توڑا تھا اور سرنگ میں سے اس کے اندر گھسے تھے۔