Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4956 (سنن أبي داود)

[4956]صحیح

صحیح بخاری (6190)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ،عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَہُ: مَا اسْمُكَ؟،قَالَ: حَزْنٌ! قَالَ: أَنْتَ سَہْلٌ. قَالَ: لَا, السَّہْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَہَنُ! قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّہُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَہُ حُزُونَةٌ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ ﷺ اسْمَ الْعَاصِ،وَعَزِيزٍ،وَعَتَلَةَ،وَشَيْطَانٍ،وَالْحَكَمِ،وَغُرَابٍ،وَحُبَابٍ،وَشِہَابٍ،, فَسَمَّاہُ ہِشَامًا،وَسَمَّی حَرْبًا سَلْمًا،وَسَمَّی الْمُضْطَجِعَ الْمُنْبَعِثَ, وَأَرْضًا تُسَمَّی عَفِرَةَ سَمَّاہَا خَضِرَةَ،وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاہُ شَعْبَ الْہُدَی،وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاہُمْ بَنِي الرِّشْدَةِ،وَسَمَّی بَنِي مُغْوِيَةَ بَنِي رِشْدَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: تَرَكْتُ أَسَانِيدَہَا لِلِاخْتِصَارِ.

جناب سعید بن مسیب اپنے والد سے وہ دادا (حزن) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا ’’تمہارا کیا نام ہے؟‘‘ کہا: حزن۔(بمعنی سخت اور دشوار گزار زمین) آپ ﷺ نے فرمایا ’’تم ’’سہل‘‘ ہو۔(بمعنی نرم اور آسان)۔‘‘ اس نے کہا: نہیں ’’سہل‘‘ کو تو روندا جاتا اور حقیر جانا جاتا ہے۔سعید کہتے ہیں: مجھے یقین رہا کہ ہمیں ان کے بعد کوئی سختی اور غمی لاحق ہونے والی ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عاص،عزیز،عتلہ،شیطان،حکم،غراب،حباب اور شہاب کے نام بدلے ہیں۔اور شہاب کا نام ہشام رکھا۔اور حرب کا سلم۔مضطجع کا منبعث۔ایک علاقے کا نام عفرہ سے بدل کر خضرہ کر دیا شعب الضلالۃ کا شعب الھدی،بنوالزانیہ کا بنوالرشدہ اور بنو مغویہ کا بنورشدہ کر دیا۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان کی سندیں اختصار کی وجہ سے چھوڑ دی ہیں۔