Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4958 (سنن أبي داود)

[4958]صحیح

صحیح مسلم (2137)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ،عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ،عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا،وَلَا رَبَاحًا،وَلَا نَجِيحًا،وَلَا أَفْلَحَ،فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ ہُوَ؟ فَيَقُولُ: لَا،إِنَّمَا ہُنَّ أَرْبَعٌ, فَلَا تَزِيدَنَّ عَلَيَّ.

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اپنے بچے یا غلام کا نام یسار ’’مبارک،آسان‘‘ رباح ’’نفع آور‘‘ نجیح ’’کامیاب‘‘ افلح ’’کامیاب‘‘ ہرگز نہ رکھنا۔تم پوچھو گے کیا وہ یہاں ہے؟ تو جواب ملے گا نہیں۔‘‘ (مقصد یہ ہے کہ اس طرح بدفالی ہو گی) (سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا) یہ بس چار نام ہیں،مذید میرے ذمے نہ لگا دینا۔