Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4960 (سنن أبي داود)

[4960]إسنادہ صحیح

الأعمش صرح بالسماع عند البخاري فی الأدب المفرد (833) ورواہ مسلم (2138)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي سُفْيَانَ،عَنْ جَابِرٍ،قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللہُ أَنْہَی أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا: نَافِعًا،وَأَفْلَحَ،وَبَرَكَةَ. قَالَ الْأَعْمَشُ: وَلَا أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لَا! فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ: إِذَا جَاءَ, أَثَمَّ بَرَكَةُ؟ فَيَقُولُونَ: لَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَی أَبُو الزُّبَيْرِ،عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَہُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ.

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اگر اللہ نے چاہا میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو اس سے منع کروں گا کہ وہ ’’نافع،افلح اور برکت‘‘ نام رکھیں۔‘‘ اعمش کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں شیخ (ابوسفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں۔دراصل آدمی جب آتا ہے اور پوچھتا ہے ’’کیا برکت ہے؟‘‘ تو جواب ملتا ہے نہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوزبیر نے بواسطہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کی مانند روایت کیا ہے مگر اس میں ’’برکت‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔