Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4966 (سنن أبي داود)

[4966]حسن

ولہ شاھد عند أحمد (2/433 ح9598 وسندہ حسن) وحدیث البخاري (3538) ومسلم (2133) یغني عنہ مشکوۃ المصابیح (4770)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،حَدَّثَنَا ہِشَامٌ،عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،عَنْ جَابِرٍ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: مَنْ تَسَمَّی بِاسْمِي, فَلَا يَتَكَنَّی بِكُنْيَتِي،وَمَنْ تَكَنَّی بِكُنْيَتِي, فَلَا يَتَسَمَّی بِاسْمِي. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَی بِہَذَا الْمَعْنَی ابْنُ عَجْلَانَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَرُوِيَ،عَنْ أَبِي زُرْعَةَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ مُخْتَلِفًا عَلَی الرِّوَايَتَيْنِ وَكَذَلِكَ رِوَايَةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ اخْتُلِفَ فِيہِ رَوَاہُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَلَی مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَرَوَاہُ مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللہِ عَلَی مَا قَالَ ابْنُ سِيرِينَ وَاخْتُلِفَ فِيہِ عَلَی مُوسَی بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَيْضًا عَلَی الْقَوْلَيْنِ اخْتَلَفَ فِيہِ حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ.

جناب ابوزبیر،سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص میرا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے۔اور جس نے میری کنیت رکھی ہو وہ میرا نام نہ رکھے۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عجلان نے بواسطہ اپنے والد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی روایت (روایت جابر) کے ہم معنی روایت کیا ہے۔(نام یا کنیت میں سے ایک چیز جائز ہے۔دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں۔) اور ابوزرعہ سے بواسطہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں روایتیں مروی ہیں (جمع کرنا درست نہیں،اور گزشتہ روایت کی مانند بھی کہ صرف کنیت جائز نہیں)۔عبدالرحمٰن بن ابو عمرہ کی روایت جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے اس میں بھی اختلاف ہے۔ثوری اور ابن جریج نے ابوزبیر کی مانند روایت کیا (جمع کرنا درست نہیں)۔اور معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح کہا (نام رکھنا جائز،مگر کنیت جائز نہیں)۔موسیٰ بن یسار کی روایت بواسطہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میں بھی دونوں قول ہیں۔اس میں حماد بن خالد اور ابن ابوفدیک نے اختلاف کیا ہے۔