Sunan Abi Dawood Hadith 4968 (سنن أبي داود)
[4968] إسنادہ ضعیف
محمد بن عمران الحجبي مستور (تقریب: 6199)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ،عَنْ جَدَّتِہِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ! إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلَامًا،فَسَمَّيْتُہُ مُحَمَّدًا،وَكَنَّيْتُہُ أَبَا الْقَاسِمِ! فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَہُ ذَلِكَ؟! فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي-أَوْ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا وجہ ہے کہ میرا نام تو جائز ہو اور کنیت حرام۔‘‘ یا فرمایا ’’کس چیز نے میری کنیت حرام ٹھہرا دی اور نام جائز کر دیا؟‘‘