Sunan Abi Dawood Hadith 4969 (سنن أبي داود)
[4969]إسنادہ صحیح
صحیح بخاری (847)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،حَدَّثَنَا ثَابِتٌ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَی: أَبَا عُمَيْرٍ،وَكَانَ لَہُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِہِ،فَمَاتَ،فَدَخَلَ عَلَيْہِ النَّبِيُّ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ،فَرَآہُ حَزِينًا،فَقَالَ: مَا شَأْنُہُ؟،قَالُوا،مَاتَ نُغَرُہُ! فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ! مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی نے جس کی کنیت ’’ابوعمیر‘‘ تھی،اس نے ایک چڑیا رکھی ہوئی تھی جس سے وہ کھیلا کرتا تھا۔(اس چڑیا کو عربی میں ((نغیر)) کہتے تھے) تو وہ مر گئی۔ایک دن نبی کریم ﷺ اس کے پاس گئے اور اسے غمگین پایا تو پوچھا ’’اسے کیا ہوا ہے؟‘‘ ہم نے بتایا کہ اس کی چڑیا ((نغیر)) مر گئی ہے۔تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا ’’اے ابوعمیر! کیا کر گیا (تیرا) ((نغیر))؟‘‘