Sunan Abi Dawood Hadith 4985 (سنن أبي داود)
[4985]إسنادہ صحیح
سالم بن أبي الجعد برئ من التدلیس مشکوۃ المصابیح (1253)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ،عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ،قَالَ: قَالَ رَجُلٌ-: قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاہُ مِنْ خُزَاعَةَ-: لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ! فَكَأَنَّہُمْ عَابُوا عَلَيْہِ ذَلِكَ! فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: يَا بِلَالُ! أَقِمِ الصَّلَاةَ, أَرِحْنَا بِہَا.
جناب سالم بن ابو جعد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: مسعر کا خیال ہے کہ وہ قبیلہ خزاعہ سے تھا۔کاش میں نماز پڑھ لیتا تو سکون پاتا۔تو دوسرے لوگوں نے گویا اس کے اس انداز پر عیب لگایا۔تو اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ’’بلال! نماز کی اقامت کہو،ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ۔‘‘