Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4986 (سنن أبي داود)

[4986]صحیح

الحدیث السابق (4985) شاھد لہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ،حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ،عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ،قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَی صِہْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ نَعُودُہُ،فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ،فَقَالَ لِبَعْضِ أَہْلِہِ: يَا جَارِيَةُ! ائْتُونِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ،قَالَ: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ عَلَيْہِ! فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: قُمْ يَا بِلَالُ فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ.

جناب عبداللہ بن محمد ابن حنفیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد انصاریوں میں ہمارے سسرالیوں کے ہاں عیادت کے لیے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا۔تو اس نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کہا: اے لڑکی! وضو کے لیے پانی لاؤ ‘ شاید میں نماز پڑھ لوں تو راحت پاؤں۔تو ہم نے ان کا یہ جملہ پسند نہ کیا۔تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا ہے ‘ آپ ﷺ فرماتے تھے ’’اے بلال! اٹھو ہمیں نماز کے ساتھ راحت پہنچاؤ۔‘‘