Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 4999 (سنن أبي داود)

[4999] إسنادہ ضعیف

أبو إسحاق عنعن وسقط ذکرہ من السنن الکبری للنسائي (8495) ! وانظر (ص 185)

و حدیث أحمد (4/ 275 ح 18421) سندہ صحیح و ھو مختصر و یغني عنہ

انوار الصحیفہ ص 174

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ،حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ،حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ،قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ-رَحْمَةُ اللہِ عَلَيْہِ-عَلَی النَّبِيِّ ﷺ فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا،فَلَمَّا دَخَلَ, تَنَاوَلَہَا لِيَلْطِمَہَا،وَقَالَ: أَلَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ! فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَحْجِزُہُ،وَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ مُغْضَبًا! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ-حِينَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ-: كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُكِ مِنَ الرَّجُلِ؟!،قَالَ: فَمَكَثَ أَبُو بَكْرٍ أَيَّامًا،ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ،فَوَجَدَہُمَا قَدِ اصْطَلَحَا،فَقَالَ لَہُمَا: أَدْخِلَانِي فِي سِلْمِكُمَا كَمَا أَدْخَلْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا! فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: قَدْ فَعَلْنَا،قَدْ فَعَلْنَا.

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت چاہی ‘ تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز سنی جو قدرے بلند تھی۔جب وہ اندر آئے تو انہوں نے اسے طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا۔اور بولے: میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو۔تو نبی کریم ﷺ اسے بچانے لگے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غصے سے باہر نکل آئے۔جب ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’دیکھا! میں نے تجھے اس آدمی سے کیسے بچایا؟‘‘ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چند دن توقف کیا اور پھر رسول اللہ ﷺ سے (ملنے کے لیے) اجازت چاہی اور انہیں پایا کہ ان کی صلح ہو چکی ہے ‘ تو ان سے کہا: مجھے بھی اپنی صلح میں شامل کر لو جیسے تم نے مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا۔تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’ہم نے کر لیا ‘ ہم نے کر لیا۔‘‘