Sunan Abi Dawood Hadith 5000 (سنن أبي داود)
[5000]صحیح
صحیح بخاری (3176)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْعَلَاءِ،عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللہِ،عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ،عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ،قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ-وَہُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ-فَسَلَّمْتُ،فَرَدَّ،وَقَالَ: ادْخُلْ،فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللہِ؟! قَالَ: كُلُّكَ،فَدَخَلْتُ.
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سفر میں،میں رسول اﷲ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔میں نے سلام کہا،تو آپ ﷺ نے جواب دیا اور فرمایا ’’اندر آ جاؤ۔‘‘ میں نے عرض کیا۔کیا میں سارا ہی آ جاؤں،اے اﷲ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا ’’سارا ہی آ جاؤ۔‘‘ اور میں اندر حاضر ہو گیا۔