Sunan Abi Dawood Hadith 5012 (سنن أبي داود)
[5012] إسنادہ ضعیف
عبداﷲ بن ثابت النحوي: مجہول(تقریب: 3241) وشیخہ صخر بن عبداﷲ مقبول (تقریب التہذیب: 2906) أي مجہول الحال
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
-حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ فَارِسٍ،حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ عَبْدُ اللہِ بْنُ ثَابِتٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَيْدَةَ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ،قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا،وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَہْلًا،وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا،وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا. فَقَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ: صَدَقَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ،أَمَّا قَوْلُہُ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا فَالرَّجُلُ يَكُونُ عَلَيْہِ الْحَقُّ وَہُوَ أَلْحَنُ بِالْحُجَجِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ فَيَسْحَرُ الْقَوْمَ بِبَيَانِہِ فَيَذْہَبُ بِالْحَقِّ, وَأَمَّا قَوْلُہُ: إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَہْلًا, فَيَتَكَلَّفُ الْعَالِمُ إِلَی عِلْمِہِ مَا لَا يَعْلَمُ فَيُجَہِّلُہُ ذَلِكَ, وَأَمَّا قَوْلُہُ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا, فَہِيَ ہَذِہِ الْمَوَاعِظُ وَالْأَمْثَالُ الَّتِي يَتَّعِظُ بِہَا النَّاسُ, وَأَمَّا قَوْلُہُ: إِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا, فَعَرْضُكَ كَلَامَكَ وَحَدِيثَكَ عَلَی مَنْ لَيْسَ مِنْ شَأْنِہِ وَلَا يُرِيدُہُ.
سیدنا صخر بن عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کیا،وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا،آپ ﷺ فرماتے تھے ’’بلاشبہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور کئی علم جہالت۔بیشک کئی شعر حکمت ہوتے ہیں اور بعض اقوال محض بوجھ۔‘‘ اس پر صعصعہ بن صوحان نے کہا: سچ فرمایا اللہ کے نبی ﷺ نے۔آپ ﷺ کا یہ فرمان ’’بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔‘‘ اس کی وضاحت یہ ہے کہ بعض اوقات آدمی کے ذمے کوئی حق ہوتا ہے (کہ وہ حقدار کو ادا کرے) مگر وہ حقدار کے مقابلے میں چرب زبان ہوتا ہے تو لوگوں کو اپنے بیان سے مسحور کر لیتا ہے اور حق مار لیتا ہے۔اور آپ ﷺ کا یہ فرمان ’’بعض علم جہالت ہوتے ہیں۔‘‘ یوں ہے کہ بعض اوقات کوئی صاحب علم ان امور میں جن کی اسے کوئی خبر نہیں ہوتی تکلف سے بات کرتا ہے تو جہالت کا ارتکاب کرتا ہے۔اور آپ ﷺ کا یہ قول ’’کئی شعر حکمت ہوتے ہیں۔‘‘ تو اس سے مراد وہ اشعار ہیں جن میں وعظ و نصیحت اور عمدہ مثالیں ذکر ہوتی ہیں جن سے لوگ نصیحت پاتے ہیں۔اور آپ کا یہ کہنا ’’کئی اقوال محض بوجھ ہوتے ہیں۔‘‘ یوں ہے کہ آپ اپنی بات ایسے شخص کے سامنے پیش کرنے لگیں جو اس کے ذوق و مزاج کے مطابق نہ ہو اور نہ وہ اس کا خواہاں ہو۔