Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5039 (سنن أبي داود)

[5039]صحیح

صحیح بخاری (6221) صحیح مسلم (2991)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ ح،وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَی،قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ،عَنْ أَنَسٍ،قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ،فَشَمَّتَ أَحَدَہُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ،قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللہِ! رَجُلَانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَحَدَہُمَا،-قَالَ أَحْمَدُ: أَوْ فَسَمَّتَّ أَحَدَہُمَا-وَتَرَكْتَ الْآخَرَ؟ فَقَالَ: إِنَّ ہَذَا حَمِدَ اللہَ،وَإِنَّ ہَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللہَ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ ﷺ نے ایک کو جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا۔تو آپ ﷺ سے کہا گیا: اے اﷲ کے رسول! دو آدمیوں نے چھینک ماری ‘ مگر آپ نے ایک جو جواب دیا ہے۔احمد (احمد بن یونس) نے وضاحت کی کہ یہاں لفظ ((فشمت أحدہما)) تھے یا ((فسمت أحدہما)) اور دوسرے کو چھوڑ دیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’اس نے (جس کو میں نے جواب دیا ہے) اﷲ کی حمد کی ہے اور اس نے اﷲ کی حمد نہیں کی۔‘‘