Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5040 (سنن أبي داود)

[5040]صحیح

ولہ شاھد عند ابن حبان (1959) وصححہ الحاکم (4/271) ووافقہ الذہبي مشکوۃ المصابیح (4719)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي كَثِيرٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،عَنْ يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ،قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَی بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا،فَانْطَلَقْنَا،فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ! أَطْعِمِينَا،فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ،فَأَكَلْنَا،ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا!،فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا،ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا!،فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ،فَشَرِبْنَا،ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ! اسْقِينَا،فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ،فَشَرِبْنَا،ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ،وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ. قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَی بَطْنِي،إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِہِ،فَقَالَ: إِنَّ ہَذِہِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُہَا اللہُ. قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللہِ ﷺ.

سیدنا یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کا بیان ہے کہ میرے والد (طخفہ رضی اللہ عنہ) اصحاب صفہ میں سے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ’’ہمارے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو۔‘‘ تو ہم چل دیے۔(وہاں پہنچ کر) آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! ہمیں (کچھ) کھلاؤ۔‘‘ تو وہ جشیشہ لے آئیں جو ہم نے کھایا۔(جشیشہ اس انداز کا کھانا ہے کہ گندم کو پیس کر آٹا ہنڈیا میں چڑھائیں پھر اس میں گوشت یا کھجور ڈال کر پکائیں۔اسے ایک طرح کا حلیم بھی کہا جا سکتا ہے۔) پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! ہمیں کچھ اور بھی کھلاؤ۔‘‘ تو وہ حیس۔(کھجور ‘ گھی اور پنیر وغیرہ کا مرکب کھانا) لے آئیں جو تھوڑا سا تھا ‘ جیسے کہ چڑیا ہو (یا ممکن ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مراد ہوں کہ وہ صدق و وفا شعاری میں قطاۃ چڑیا کی مانند تھیں) ہم نے وہ حیس کھایا۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’عائشہ! ہمیں کچھ پلاؤ۔‘‘ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے آئیں۔ہم نے وہ پی لیا۔آپ ﷺ نے پھر فرمایا ’’عائشہ! ہمیں اور بھی پلاؤ۔‘‘ تو وہ ایک چھوٹا پیالہ لے آئیں ‘ تو ہم نے وہ بھی پیا۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ’’اگر چاہو تو سو جاؤ اور اگر چاہو تو مسجد میں چلے جاؤ۔‘‘ طخفہ کہتے ہیں: میں مسجد میں اوندھے منہ اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ میرے پھیپھڑے میں تکلیف تھی۔تو اچانک میں نے پایا کہ کسی نے مجھے اپنے پاؤں سے حرکت دی ہے اور کہہ رہا ہے۔’’اس طرح سے سونا اﷲ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔‘‘ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔