Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5051 (سنن أبي داود)

[5051]صحیح

صحیح مسلم (2713)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

-حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا وُہَيْبٌ ح،وحَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،عَنْ خَالِدٍ نَحْوَہُ،عَنْ سُہَيْلٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،أَنَّہُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِہِ: اللہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ،وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ, فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی،مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ،وَالْإِنْجِيلِ،وَالْقُرْآنِ،أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِہِ،أَنْتَ الْأَوَّلُ, فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ،وَأَنْتَ الْآخِرُ, فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاہِرُ, فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ،وَأَنْتَ الْبَاطِنُ, فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. زَادَ وَہْبٌ فِي حَدِيثِہِ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ،وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ.

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر آتے،یہ دعا پڑھتے تھے (( اللہم رب السموات ورب الأرض ورب کل شیء فالق الحب والنوی منزل التوراۃ والإنجیل والقرآن أعوذ بک من شر کل ذی شر أنت آخذ بناصیتہ أنت الأول فلیس قبلک شیء وأنت الآخر فلیس بعدک شیء وأنت الظاہر فلیس فوقک شیء وأنت الباطن فلیس دونک شیء)) وہب (وہب بن بقیہ) کی روایت میں مذید ہے ((اقض عنی الدین وأغننی من الفقر)) ’’اے اللہ! اے آسمانوں کے رب! اے زمین کے رب! اور ہر شے کے رب! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر اگانے والے! اے تورات،انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر شر والی چیز سے،جن کی پیشانی تو ہی پکڑے ہوئے ہے،تیری پناہ چاہتا ہوں۔تو سب سے پہلے ہے،تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا۔تو سب سے آخر ہے تیرے بعد کچھ نہ ہو گا۔تو ہی ظاہر ہے تجھ سے زیادہ ظاہر کوئی نہیں۔تو ہی پوشیدہ ہے تجھ سے پوشیدہ تر کوئی نہیں۔میرا قرض ادا فرما دے اور مجھے (لوگوں کی) محتاجی سے بے پروا کر دے۔‘‘