Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5062 (سنن أبي داود)

[5062]صحیح

صحیح بخاری (5361) صحیح مسلم (2727)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح،حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ شُعْبَةَ الْمَعْنَی عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ مُسَدَّدٌ،قَالَ:،حَدَّثَنَا عَلِيٌّ،قَالَ: شَكَتْ فَاطِمَةُ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ مَا تَلْقَی فِي يَدِہَا مِنَ الرَّحَی،فَأُتِيَ بِسَبْيٍ،فَأَتَتْہُ تَسْأَلُہُ،فَلَمْ تَرَہُ،فَأَخْبَرَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةَ،فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ ﷺ أَخْبَرَتْہُ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا،فَذَہَبْنَا لِنَقُومَ،فَقَالَ: عَلَی مَكَانِكُمَا،فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْہِ عَلَی صَدْرِي،فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَی خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا, إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا،فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ،وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ, وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَہُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے چکی پیسنے کے باعث ہاتھوں میں تکلیف کا اظہار کیا۔پھر آپ ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے پاس آئیں کہ آپ سے کوئی خادم طلب کریں،مگر آپ نہ ملے،تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا۔جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے،تو انہوں نے آپ ﷺ سے ذکر کیا (کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئی تھیں) تو نبی کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں میں جا چکے تھے۔آپ تشریف لائے تو ہم اٹھنے لگے۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’اپنی اپنی جگہ پر رہو۔‘‘ آپ آئے اور ہمارے درمیان بیٹھ گئے،حتیٰ کہ میں نے آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس چیز سے بہت بہتر ہو جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے؟ جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس بار ((سبحان اللہ)) تینتیس بار ((الحمد اللہ)) اور چونتیس بار ((اللہ اکبر)) پڑھ لیا کرو۔یہ تمہارے لیے خادم سے کہیں بہتر ہے۔‘‘