Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5063 (سنن أبي داود)

[5063] إسنادہ ضعیف

وانظر الحدیث السابق (2988)

انوار الصحیفہ ص 175

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ ہِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ،عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ،قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِابْنِ أَعْبُدَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللہِ ﷺ؟-وَكَانَتْ أَحَبَّ أَہْلِہِ إِلَيْہِ-،وَكَانَتْ عِنْدِي،فَجَرَّتْ بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَتْ بِيَدِہَا،وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَتْ فِي نَحْرِہَا،وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّی اغْبَرَّتْ ثِيَابُہَا،وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّی دَكِنَتْ ثِيَابُہَا،وَأَصَابَہَا مِنْ ذَلِكَ ضُرٌّ،فَسَمِعْنَا أَنَّ رَقِيقًا أُتِيَ بِہِمْ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ،فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ،فَسَأَلْتِيہِ خَادِمًا يَكْفِيكِ! فَأَتَتْہُ،فَوَجَدَتْ عِنْدَہُ حُدَّاثًا فَاسْتَحْيَتْ فَرَجَعَتْ،فَغَدَا عَلَيْنَا وَنَحْنُ فِي لِفَاعِنَا،فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِہَا،فَأَدْخَلَتْ رَأْسَہَا فِي اللِّفَاعِ حَيَاءً مِنْ أَبِيہَا،فَقَالَ: مَا كَانَ حَاجَتُكِ أَمْسِ إِلَی آلِ مُحَمَّدٍ؟. فَسَكَتَتْ مَرَّتَيْنِ،فَقُلْتُ: أَنَا وَاللہِ أُحَدِّثُكَ يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّ ہَذِہِ جَرَّتْ عِنْدِي بِالرَّحَی حَتَّی أَثَّرَتْ فِي يَدِہَا،وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّی أَثَّرَتْ فِي نَحْرِہَا،وَكَسَحَتِ الْبَيْتَ حَتَّی اغْبَرَّتْ ثِيَابُہَا،وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّی دَكِنَتْ ثِيَابُہَا،وَبَلَغَنَا أَنَّہُ قَدْ أَتَاكَ رَقِيقٌ أَوْ خَدَمٌ فَقُلْتُ لَہَا: سَلِيہِ خَادِمًا... فَذَكَرَ مَعْنَی حَدِيثِ الْحَكَمِ،وَأَتَمَّ.

امیرالمؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن اعبد سے کہا کہ میں تمہیں اپنی اور فاطمہ بنت رسول ﷺ کی بات نہ بتاؤں۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو اپنے اہل میں سب سے بڑھ کر محبوب تھیں اور وہ میری زوجیت میں تھیں۔چکی چلاتی تھیں حتیٰ کہ ان کے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے۔مشکیزے میں پانی بھر کر لاتی تھیں،اس سے سینے پر نشان پڑ گئے۔گھر میں جھاڑو دیتی تھیں اس سے کپڑے خراب ہو جاتے تھے۔ہنڈیا کے نیچے آگ جلاتیں تو اس سے کپڑے گندے ہو جاتے تھے اور اس سے انہیں اذیت بھی ہوتی تھی۔پھر ہم نے سنا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ غلام لائے گئے ہیں۔تو میں نے کہا: اگر تم اپنے ابا کے پاس جاؤ اور ان سے کسی خادم کا کہو جو تمہارے کام کر دیا کرے (تو بہتر رہے)۔چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس گئیں مگر پایا کہ آپ ﷺ کے پاس کچھ باتیں کرنے والے بیٹھے ہیں تو انہیں بات کرنے میں حیاء آئی،لہٰذا وہ واپس لوٹ آئیں۔اگلی صبح آپ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم لحاف اوڑھے ہوئے تھے۔چنانچہ آپ ﷺ،سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سر کے پاس بیٹھ گئے تو انہوں نے اپنے والد سے حیاء کے باعث اپنا سر لحاف میں دے لیا۔آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ’’کل تمہیں آل محمد کے ہاں کیا کام تھا؟‘‘ تو وہ خاموش رہیں۔آپ ﷺ نے دو بار پوچھا۔تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں عرض کیے دیتا ہوں۔بلاشبہ یہ میرے ہاں (گھر میں) چکی پیستی ہیں حتیٰ کہ ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں،مشک اٹھا کر پانی بھر کر لاتی ہیں حتیٰ کہ سینے پر نشان پڑ گئے ہیں،گھر میں جھاڑو دیتی ہیں اور کپڑے غبار آلود ہو جاتے ہیں،ہنڈیا کے نیچے آگ جلاتی ہیں حتیٰ کہ کپڑے سیاہ ہو جاتے ہیں،اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس غلام یا خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ آپ سے کسی خادم کا پوچھیں،اور (مذکورہ بالا) روایت حکم کے ہم معنی ذکر کیا اور وہ زیادہ کامل ہے۔