Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5066 (سنن أبي داود)

[5066]حسن

انظر الحدیث السابق (2987)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ وَہْبٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ حَسَنٍ الضَّمْرِيِّ, أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ-أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيِ الزُّبَيْرِ-حَدَّثَہُ،عَنْ إِحْدَاہُمَا, أَنَّہَا قَالَتْ: أَصَابَ رَسُولُ اللہِ سَبْيًا،فَذَہَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ ﷺ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَشَكَوْنَا،إِلَيْہِ مَا نَحْنُ فِيہِ،وَسَأَلْنَاہُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ السَّبْيِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: سَبَقَكُنَّ يَتَامَی بَدْرٍ. ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ التَّسْبِيحِ... قَالَ: عَلَی أَثَرِ كُلِّ صَلَاةٍ،لَمْ يَذْكُرِ النَّوْمَ.

ام الحکم کے صاحبزادے یا ضباعہ بنت زبیر سے روایت ہے (ام الحکم اور ضباعہ دونوں زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹیاں ہیں) کہتی ہیں کہرسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں،میری بہن اور نبی کریم ﷺ کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ہم نے انہیں اپنی وہ مشکلات پیش کیں جن سے ہم دوچار ہوتی تھیں،اور ہم نے عرض کیا کہ ان قیدیوں میں سے کوئی خادم ہمیں بھی دیے جانے کا حکم ارشاد فرمائیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’بدر کے یتیم تم سے پہلے لے چکے ہیں۔پھر تسبیح والا قصہ ذکر کیا اور اس روایت میں ہر نماز کے بعد کا بیان ہے،سوتے وقت کا ذکر نہیں ہے۔