Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5065 (سنن أبي داود)

[5065]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (926 وسندہ حسن) والنسائي (1349 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (2406)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ،قَالَ: خَصْلَتَانِ-أَوْ خَلَّتَانِ-لَا يُحَافِظُ عَلَيْہِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ, إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ, ہُمَا يَسِيرٌ،وَمَنْ يَعْمَلُ بِہِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا،وَيَحْمَدُ عَشْرًا،وَيُكَبِّرُ عَشْرًا،فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ،وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ،وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ, إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ،وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ،وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ, فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ. فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَعْقِدُہَا بِيَدِہِ،قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ! كَيْفَ ہُمَا يَسِيرٌ،وَمَنْ يَعْمَلُ بِہِمَا قَلِيلٌ؟ قَالَ: يَأْتِي أَحَدَكُمْ-يَعْنِي: الشَّيْطَانَ-فِي مَنَامِہِ،فَيُنَوِّمُہُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَہُ،وَيَأْتِيہِ فِي صَلَاتِہِ فَيُذَكِّرُہُ حَاجَةً قَبْلَ أَنْ يَقُولَہَا.

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’دو عمل ایسے ہیں اگر کوئی مسلمان بندہ ان کی پابندی کر لے،تو جنت میں داخل ہو گا اور وہ بہت آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔(ایک یہ ہے کہ) ہر نماز کے بعد دس بار ((سبحان اللہ)) دس بار ((الحمد اللہ)) اور دس بار ((اللہ اکبر)) کہے تو زبان کی ادائیگی کے اعتبار سے ایک سو پچاس بار ہے (مجموعی طور پر پانچوں نمازوں کے بعد) اور ترازو میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے اور جب سونے لگے تو چونتیس بار ((اللہ اکبر)) تینتیس بار ((الحمد اللہ)) اور تینتیس بار ((سبحان اللہ)) کہے۔زبانی طور پر تو یہ ایک سو بار ہے مگر میزان میں یہ تسبیحات ایک ہزار ہوں گی۔‘‘ یقیناً میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا،آپ ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے شمار کرتے تھے۔صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہے کہ یہ عمل آسان ہے مگر کرنے والے تھوڑے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’سوتے وقت میں کسی کے پاس شیطان آ جاتا ہے اور پہلے اس سے کہ وہ یہ تسبیحات پوری کر لے،وہ اسے سلا دیتا ہے اور (اسی طرح) نماز میں شیطان آ جاتا ہے اور اسے کوئی کام یاد دلا دیتا ہے تو وہ انہیں پڑھے بغیر ہی اٹھ جاتا ہے۔‘‘