Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5072 (سنن أبي داود)

[5072]إسنادہ حسن

سابق بن ناجیۃ حسن الحدیث مشکوۃ المصابیح (2399)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

-حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ أَبِي عَقِيلٍ،عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ،عَنْ أَبِي سَلَّامٍ, أَنَّہُ كَانَ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ،فَمَرَّ بِہِ رَجُلٌ،فَقَالُوا: ہَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ ﷺ،فَقَامَ إِلَيْہِ،فَقَالَ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ،لَمْ يَتَدَاوَلْہُ بَيْنَكَ وَبَيْنَہُ الرِّجَالُ؟! قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَی: رَضِينَا بِاللہِ رَبًّا،وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا،وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا, إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَی اللہِ أَنْ يُرْضِيَہُ.

جناب ابوسلام (ممطور الحبشی) حمص کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک شخص گزرا۔لوگوں نے بتایا کہ یہ آدمی نبی کریم ﷺ کا خادم رہا ہے۔تو ابوسلام اس کی طرف اٹھ کر گئے اور کہا: مجھے ایسی حدیث بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور وہ صرف آپ کو بتائی ہو،عام لوگوں سے نہ کہی ہو۔تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ’’جو شخص صبح یا شام کو یہ پڑھ لیا کرے ((رضینا باللہ ربا وبالإسلام دینا وبمحمد رسولا)) ’’ہم اس بات پر راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب،اسلام ہمارا دین اور محمد (ﷺ) ہمارے رسول ہیں۔‘‘ تو اللہ پر یہ حق ہو گا کہ وہ اسے راضی کر دے۔‘‘