Sunan Abi Dawood Hadith 5074 (سنن أبي داود)
[5074]إسنادہ صحیح
أخرجہ النسائي (5531 وسندہ صحیح) وأحمد (2/ 25 ح 4785 وسندہ صحیح) مشکوۃ المصابیح (2397)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ مُوسَی الْبَلْخِيُّ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح،وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَی،حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ،قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيُّ،عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ،يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَدَعُ ہَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ،اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي،وَدُنْيَايَ،وَأَہْلِي،وَمَالِيَ اللہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي. وَقَالَ عُثْمَانُ: عَوْرَاتِي،وَآمِنْ رَوْعَاتِي،اللہُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ،وَمِنْ خَلْفِي،وَعَنْ يَمِينِي،وَعَنْ شِمَالِي،وَمِنْ فَوْقِي،وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي: الْخَسْفَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ شام کو اور صبح کے وقت یہ دعائیں نہ چھوڑا کرتے تھے (ہمیشہ پڑھا کرتے تھے) ((اللہم إنی أسألک العافیۃ فی الدنیا والآخرۃ اللہم إنی أسألک العفو والعافیۃ فی دینی ودنیای وأہلی ومالی اللہم استر عورتی)) عثمان (عثمان بن ابی شیبہ) کے الفاظ ہیں ((عوراتی وآمن روعاتی اللہم احفظنی من بین یدی ومن خلفی وعن یمینی وعن شمالی ومن فوقی وأعوذ بعظمتک أن أغتال من تحتی)) ’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے آرام اور راحت کا سوال کرتا ہوں۔اے اللہ! میں تجھ سے معافی اور عافیت کا طلب گار ہوں اپنے دین و دنیا میں اور اپنے اہل و مال میں۔اے اللہ! میرے عیب چھپا دے۔مجھے میرے اندیشوں اور خطرات سے امن عنایت فرما۔یا اللہ! میرے آگے،میرے پیچھے،میرے دائیں،میرے بائیں اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما۔اور میں تیری عظمت کے ذریعے سے اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے کی طرف سے ہلاک کر دیا جاؤں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بیان کیا،جناب وکیع نے کہا کہ ((أغتال من تحتی)) سے مراد ہے ’’زمین میں دھنسا دیا جاؤں (اس سے پناہ چاہتا ہوں)۔‘‘