Sunan Abi Dawood Hadith 5080 (سنن أبي داود)
[5080]حسن
مشکوۃ المصابیح (انظر الحدیث السابق (5079))
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ سَہْلٍ الرَّمْلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی الْحِمْصِيُّ قَالُوا،حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ الْكِنَانِيُّ،قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ،عَنْ أَبِيہِ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ, قَالَ... نَحْوَہُ،إِلَی قَوْلِہِ: جِوَارٌ مِنْہَا،إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِيہِمَا: قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَ أَحَدًا. قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَہْلٍ فِيہِ إِنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ الْمُصَفَّی بَعَثَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي سَرِيَّةٍ،فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي،فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي،وَتَلَقَّانِي الْحَيُّ بِالرَّنِينِ،فَقُلْتُ لَہُمْ: قُولُوا: لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہُ, تُحْرَزُوا،فَقَالُوہَا, فَلَامَنِي أَصْحَابِي،وَقَالُوا: حَرَمْتَنَا الْغَنِيمَةَ،فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ أَخْبَرُوہُ بِالَّذِي صَنَعْتُ،فَدَعَانِي،فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ،وَقَالَ: أَمَا إِنَّ اللہَ قَدْ كَتَبَ لَكَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْہُمْ كَذَا وَكَذَا. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ. ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَمَا إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ بِالْوَصَاةِ بَعْدِي،قَالَ: فَفَعَلَ،وَخَتَمَ عَلَيْہِ،فَدَفَعَہُ إِلَيَّ،وَقَالَ لِي... ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاہُمْ. و قَالَ ابْنُ الْمُصَفَّی،قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيَّ يُحَدِّثُ،عَنْ أَبِيہِ.
عبدالرحمٰن بن حسان کنانی نے روایت کیا کہ مجھے مسلم بن حارث بن مسلم تمیمی نے اپنے والد سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا،اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔اور ((جوار منہا)) تک روایت کی۔مگر اس میں ہے کہ یہ کلمہ ((اللہم أجرنی من النار)) (سلام کے بعد) کسی سے بات کرنے سے پہلے کہے۔‘‘ علی بن سہل نے کہا کہ مسلم بن حارث کے والد نے اپنے بیٹے کو یہ حدیث بیان کہ ‘ جبکہ علی بن سہل اور محمد بن مصفی نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مہم میں روانہ کیا۔جب ہم لڑائی کے مقام پر پہنچ گئے تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیز دوڑایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا تو مجھے دشمن قبیلے کی آوازیں سنائی دیں۔میں نے ان سے کہا: ((لا إلہ إلا اللہ)) کہہ لو بچ جاؤ گے۔چنانچہ ان لوگوں نے یہ کلمہ کہہ دیا۔تو میرے ساتھیوں نے مجھے ملامت کی اور کہنے لگے کہ تم نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا۔پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور ساتھیوں نے وہ (واقعہ) بیان کیا کہ جو کچھ میں نے کیا تھا۔تو آپ ﷺ نے مجھے بلوایا اور میرے عمل کی تحسین فرمائی اور فرمایا ’’اﷲ نے تیرے لیے ان میں سے ہر ہر بندے کی وجہ سے اتنا اتنا ثواب لکھا ہے۔‘‘ عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن حسان) نے کہا کہ مجھے اس ثواب کی تفصیل بھول گئی ہے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’آگاہ رہو! بیشک میں اپنے بعد تمہارے لیے وصیت لکھ دیتا ہوں۔‘‘ چنانچہ آپ ﷺ نے ایسے ہی کیا اور اس تحریر میں مہر لگا کر میرے حوالے کر دی اور مجھ سے فرمایا۔پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی ذکر کیا۔ابن مصفٰی نے کہا: میں نے حارث بن مسلم بن حارث تمیمی سے سنا ‘ وہ اپنے والد سے حدیث بیان کرتے تھے۔