Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5090 (سنن أبي داود)

[5090] إسنادہ ضعیف

جعفر بن میمون ضعیف

انوار الصحیفہ ص 176

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو،عَنْ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ،عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ, أَنَّہُ قَالَ لِأَبِيہِ: يَا أَبَتِ! إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ: اللہُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي،اللہُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي،اللہُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي،لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ،تُعِيدُہَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ،وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَدْعُو بِہِنَّ،فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِہِ. قَالَ عَبَّاسٌ فِيہِ: وَتَقُولُ: اللہُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ،وَالْفَقْرِ اللہُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ،لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ،تُعِيدُہَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ،وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي،فَتَدْعُو بِہِنَّ, فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِہِ. 5090/1-قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ: اللہُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو،فَلَا تَكِلْنِي إِلَی نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ،وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّہُ،لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ. وَبَعْضُہُمْ يَزِيدُ عَلَی صَاحِبِہِ.

جناب عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! میں آپ کو سنتا ہوں کہ آپ ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہیں: ((اللہم عافنی فی بدنی اللہم عافنی فی سمعی اللہم عافنی فی بصری لا إلہ إلا أنت)) ’’اے اﷲ! مجھے میرے بدن میں آرام دے۔اے اﷲ! میرے کانوں کو سلامت رکھ ‘ یا اﷲ! میری نظر کو درست رکھ۔تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘ آپ یہ دعا صبح کو تین بار پڑھتے ہیں اور شام ہوتی ہے تو تین بار پڑھتے ہیں۔تو انہوں نے کہا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے سنا ہے۔تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ ﷺ کی سنت پر عمل کروں۔(دوسرے راوی) عباس (عباس بن عبدالعظیم) نے اپنی روایت میں کہا: اور آپ یہ دعا بھی پڑھتے ہیں: ((اللہم إنی أعوذ بک من الکفر والفقر اللہم إنی أعوذ بک من عذاب القبر لا إلہ إلا أنت)) ’’اے اﷲ میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔یا اﷲ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ آپ یہ دعا صبح کو تین بار دہراتے ہیں اور شام کو بھی پڑھتے ہیں۔(تو انہوں نے کہا) میں پسند کرتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کروں۔اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے ((اللہم رحمتک أرجو فلا تکلنی إلی نفسی طرفۃ عین وأصلح لی شأنی کلہ لا إلہ إلا أنت)) ’’اے اﷲ! میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں ‘ تو مجھے آنکھ جھپکنے تک کے لیے بھی میری اپنی جان کے حوالے نہ فرما دے ‘ اور میرے سارے معاملات درست فرما دے ‘ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘ اس روایت میں عباس بن عبدالعظیم اور محمد بن مثنی نے بعض کلمات ایک دوسرے سے کچھ زیادہ کہے ہیں۔