Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5095 (سنن أبي داود)

[5095]حسن

صرح ابن جریج بالسماع عند الضیاء المقدسي فی المختارۃ (4/ 371 ح 1540، النسخۃ الثانیۃ: 2/ 238) وسندہ حسن مشکوۃ المصابیح (2443)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ،حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ, أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْتِہِ فَقَالَ: بِسْمِ اللہِ،تَوَكَّلْتُ عَلَی اللہِ،لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہِ-قَالَ:-يُقَالُ حِينَئِذٍ: ہُدِيتَ،وَكُفِيتَ،وَوُقِيتَ،فَتَتَنَحَّی لَہُ الشَّيَاطِينُ،فَيَقُولُ لَہُ شَيْطَانٌ آخَرُ: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ ہُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ؟!.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب بندہ اپنے گھر سے نکلے اور یہ کلمات کہہ لے: حدیث ((بسم اللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوۃ إلا باللہ)) /حدیث ’’اﷲ کے نام سے،میں اللہ عزوجل پر بھروسا کرتا ہوں۔کسی شر اور برائی سے بچنا اور کسی نیکی یا خیر کا حاصل ہونا اﷲ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ تو اس وقت اسے یہ کہا جاتا ہے: تجھے ہدایت ملی،تیری کفایت کی گئی اور تجھے بچا لیا گیا (ہر بلا سے)۔چنانچہ شیاطین اس سے دور ہو جاتے ہیں اور دوسرا شیطان اس سے کہتا ہے تیرا داؤ ایسے آدمی پر کیونکر چلے جسے ہدایت دی گئی،اس کی کفایت کر دی گئی اور اسے بچا لیا گیا۔‘‘

قال معاذ علي زئي: قال الدارقطني: ’’والصحيح ‌أن ‌ابن ‌جريج ‌لم ‌يسمعہ من إسحاق‘‘ (علل الدارقطني: 12/ 13 مسئلۃ: 2346) وقال ابن حجر العسقلاني: ’’ومع ذلک فھو معلول‘‘. (الأسئلة الفائقة بالأجوبة اللائقة: ص 53) ونقل ابن حجر عن البخاري أنہ قال: ’’لا أعرف لابن جریج عن إسحاق إلا ھذا الحدیث الواحد،ولا أعرف لابن جریج سماعًا من إسحاق‘‘ (الأسئلة الفائقة بالأجوبة اللائقة: ص 53)