Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5113 (سنن أبي داود)

[5113]صحیح

صحیح بخاری (4326، 4327) صحیح مسلم (63)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ،حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ،حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ،قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ،قَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَايَ،وَوَعَاہُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ ﷺ, أَنَّہُ قَالَ: مَنِ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيہِ-وَہُوَ يَعْلَمُ أَنَّہُ غَيْرُ أَبِيہِ-فَالْجَنَّةُ عَلَيْہِ حَرَامٌ. قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرَةَ،فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَہُ؟! فَقَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَايَ،وَوَعَاہُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ ﷺ. -قَالَ عَاصِمٌ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عُثْمَانَ! لَقَدْ شَہِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ, أَيُّمَا رَجُلَيْنِ؟ فَقَالَ: أَمَّا أَحَدُہُمَا, فَأَوَّلُ مَنْ رَمَی بِسَہْمٍ فِي سَبِيلِ اللہِ-أَوْ فِي الْإِسْلَامِ-يَعْنِي: سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ-،وَالْآخَرُ, قَدِمَ مِنَ الطَّائِفِ فِي بِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا عَلَی أَقْدَامِہِمْ...،فَذَكَرَ فَضْلًا. قَالَ النُّفَيْلِيُّ حَيْثُ حَدَّثَ بِہَذَا الْحَدِيثِ وَاللہِ إِنَّہُ عِنْدِي أَحْلَی مِنَ الْعَسَلِ يَعْنِي قَوْلَہُ،حَدَّثَنَا وَحَدَّثَنِي قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ لَيْسَ لِحَدِيثِ أَہْلِ الْكُوفَةِ نُورٌ قَالَ وَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ أَہْلِ الْبَصْرَةِ كَانُوا تَعَلَّمُوہُ مِنْ شُعْبَةَ.

سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد ﷺ سے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ہے،آپ ﷺ نے فرمایا ’’جس نے اپنے آپ کو کسی اور کا بیٹا بتایا جبکہ وہ جانتا ہو کہ یہ (دوسرا) اس کا باپ نہیں ہے،تو جنت اس پر حرام ہے۔) ابوعثمان نہدی کہتے ہیں پھر میں سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا،تو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کی،تو انہوں نے (تصدیق کرتے ہوئے) کہا اسے محمد ﷺ سے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ہے۔عاصم (احول) نے بیان کیا: میں نے (اپنے شیخ) ابوعثمان سے کہا کہ آپ کے سامنے دو آدمیوں نے گواہی دی ہے،وہ کیسے آدمی ہیں؟ انہوں نے کہا: ان میں سے ایک تو وہ ہے جس نے اللہ کی راہ،یا کہا،اسلام میں سب سے پہلے تیر مارا،یعنی سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ۔اور دوسرا (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) وہ ہے جو طائف سے پیدل چل کر آیا تھا اور ان لوگوں کی تعداد بیس سے زیادہ تھی اور ان کی فضیلت بیان کی۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نفیلی نے کہا: چونکہ شیخ نے یہ حدیث ((حدثنا)) اور ((حدثنی)) کے الفاظ سے بیان کی ہے تو یہ مجھے شہد سے بھی پیاری ہے۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے تھے کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا،فرماتے تھے: کوفیوں کی حدیث میں نور نہیں۔اور کہا کہ میں نے اہل بصرہ جیسا کسی کو نہیں پایا۔انہوں نے شعبہ سے علم (حدیث) حاصل کیا تھا۔