Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5138 (سنن أبي داود)

[5138]إسنادہ حسن

أخرجہ ابن ماجہ (2088 وسندہ حسن) ورواہ الترمذي (1189 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4940)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيہِ قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّہَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَہُہَا فَقَالَ لِي طَلِّقْہَا فَأَبَيْتُ فَأَتَی عُمَرُ النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَہُ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ طَلِّقْہَا

جناب حمزہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ،پھر اپنی ماں کے ساتھ،پھر اپنے باپ کے ساتھ۔پھر قریبی رشتہ دار کے ساتھ،پھر قریبی رشتہ دار کے ساتھ۔‘‘ اور بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو کوئی اپنے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) سے اس کا زائد مال مانگے جو اس کے پاس ہو اور وہ اس کے ہوتے ہوئے نہ دے تو قیامت کے دن وہ (زائد مال) ایک گنجے سانپ کی شکل میں اس کے سامنے آئے گا۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا ((أقرع)) سے مراد ایسا سانپ ہے کہ زہر کی وجہ سے اس کے سر کے بال اڑ گئے ہوں (اور وہ گنجا ہو گیا ہو)۔