Sunan Abi Dawood Hadith 5166 (سنن أبي داود)
[5166]صحیح
صحیح مسلم (1658)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
-حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ،عَنْ حُصَيْنٍ،عَنْ ہِلَالِ بْنِ يَسَافٍ،قَالَ: كُنَّا نُزُولًا فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ،وَفِينَا شَيْخٌ فِيہِ حِدَّةٌ،وَمَعَہُ جَارِيَةٌ لَہُ،فَلَطَمَ وَجْہَہَا،فَمَا رَأَيْتُ سُوَيْدًا أَشَدَّ غَضَبًا مِنْہُ ذَاكَ الْيَوْمَ! قَالَ: عَجَزَ عَلَيْكَ إِلَّا حُرُّ وَجْہِہَا،لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ وَلَدِ مُقَرِّنٍ،وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ،فَلَطَمَ أَصْغَرُنَا وَجْہَہَا! فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ ﷺ بِعِتْقِہَا.
جناب ہلال بن یساف سے مروی ہے کہ ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر میں ٹھہرے ہوئے تھے،ہمارے ساتھ ایک بڑی عمر کا شیخ بھی تھا جس کی طبیعت میں تیزی تھی اور اس کے ساتھ اس کی لونڈی تھی۔تو اس شیخ نے اپنی اس لونڈی کے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔اس دن سیدنا سوید رضی اللہ عنہ جس قدر غصے ہوئے میں نے اس سے بڑھ کر انہیں کبھی غضبناک نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا: کیا تو اتنا ہی عاجز (اور مغلوب الغضب) ہو گیا تھا کہ اس کو مارنے کے لیے تجھے صرف اس کا عزت والا چہرہ ہی ملا تھا۔مجھے وہ منظر یاد ہے کہ میں اولاد مقرن میں ساتواں فرد تھا اور ہماری ایک ہی خادمہ تھی۔ہمارے ایک چھوٹے نے اس کے چہرے پر تھپڑ مار دیا تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ اس کو آزاد کر دو