Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5167 (سنن أبي داود)

[5167]صحیح

صحیح مسلم (1658)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،حَدَّثَنَا يَحْيَی،عَنْ سُفْيَانَ،قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُہَيْلٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ،قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًی لَنَا،فَدَعَاہُ أَبِي،وَدَعَانِي،فَقَالَ: اقْتَصَّ مِنْہُ, فَإِنَّا مَعْشَرَ بَنِي مُقَرِّنٍ كُنَّا سَبْعَةً عَلَی عَہْدِ النَّبِيِّ ﷺ،وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ،فَلَطَمَہَا رَجُلٌ مِنَّا،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: أَعْتِقُوہَا،قَالُوا: إِنَّہُ لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرَہَا! قَالَ: فَلْتَخْدُمْہُمْ حَتَّی يَسْتَغْنُوا،فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُعْتِقُوہَا.

جناب معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک غلام کو تھپڑ مار دیا۔تو میرے والد نے اس کو اور مجھے بلا لیا اور غلام سے کہا: اس سے اپنا بدلہ لو۔اور بتایا کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں ہم بنو مقرن کے سات افراد تھے اور ہماری ایک ہی خادمہ تھی۔ہمارے ایک آدمی نے اس کو تھپڑ مار دیا،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اسے آزاد کر دو۔‘‘ صحابہ نے کہا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی خادمہ نہیں ہے۔فرمایا ’’چلو جب تک کوئی اور نہیں ملتی خدمت کرتی رہے،جب اس سے مستغنی ہو جائیں تو اسے آزاد کر دیں۔