Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5173 (سنن أبي داود)

[5173]حسن

أخرجہ أحمد (2/366) کثیر بن زید والولید بن رباح کلاھما حسن الحدیث

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح،وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ طَلْحَةَ،عَنْ ہُزَيْلٍ،قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ-: قَالَ عُثْمَانُ سَعْدٌ-فَوَقَفَ عَلَی بَابِ النَّبِيِّ ﷺ يَسْتَأْذِنُ،فَقَامَ عَلَی الْبَابِ-: قَالَ عُثْمَانُ مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ-،فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ: ہَكَذَا عَنْكَ-أَوْ ہَكَذَا-, فَإِنَّمَا الِاسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ

سیدنا ہزیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص،اور بقول عثمان بن ابی شیبہ،سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم ﷺ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت طلب کرنے لگے۔عثمان بن ابی شیبہ نے وضاحت کی کہ وہ دروازے کے عین سامنے کھڑے ہو گئے۔تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا ’’اس طرف ہٹ کر کھڑے ہو یا اس طرف۔اجازت لینے کا حکم نظر ہی کی وجہ سے ہے (کہ انسان اندر نہ جھانکے)