Sunan Abi Dawood Hadith 5180 (سنن أبي داود)
[5180]صحیح
صحیح بخاری (6245) صحیح مسلم (2153)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ أَبُو مُوسَی فَزِعًا فَقُلْنَا لَہُ مَا أَفْزَعَكَ قَالَ أَمَرَنِي عُمَرُ أَنْ آتِيَہُ فَأَتَيْتُہُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي قُلْتُ قَدْ جِئْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَہُ فَلْيَرْجِعْ قَالَ لَتَأْتِيَنَّ عَلَی ہَذَا بِالْبَيِّنَةِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ قَالَ فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ مَعَہُ فَشَہِدَ لَہُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ گھبرائے گھبرائے سے آئے۔ہم نے ان سے پوچھا: آپ گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلوایا تھا کہ ان کے پاس جاؤں۔میں ان کے ہاں گیا اور تین بار اجازت طلب کی مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی،تو میں واپس ہونے لگا۔تو انہوں نے کہا: کیا وجہ تھی کہ تم میرے پاس نہیں آئے؟ میں نے ان سے کہا کہ میں آیا تھا اور تین بار اجازت مانگی مگر نہیں دی گئی۔اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے ’’تم میں سے جب کوئی تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو چاہیے کہ وہ لوٹ آئے۔‘‘ تو انہوں نے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا ہے: تمہیں اپنے اس بیان پر گواہ پیش کرنا پڑے گا۔تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارے ساتھ قوم کا کوئی چھوٹا بچہ بھی جا سکتا ہے۔(وہ اس حدیث کے صحیح ہونے کی گواہی دے سکتا ہے) چنانچہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ گئے اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے حق میں گواہی دی۔