Sunan Abi Dawood Hadith 5181 (سنن أبي داود)
[5181]صحیح
صحیح مسلم (2154)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی أَنَّہُ أَتَی عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَقَالَ يَسْتَأْذِنُ أَبُو مُوسَی يَسْتَأْذِنُ الْأَشْعَرِيُّ يَسْتَأْذِنُ عَبْدُ اللہِ بْنُ قَيْسٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَہُ فَرَجَعَ فَبَعَثَ إِلَيْہِ عُمَرُ مَا رَدَّكَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَسْتَأْذِنُ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَإِنْ أُذِنَ لَہُ وَإِلَّا فَلْيَرْجِعْ قَالَ ائْتِنِي بِبَيِّنَةٍ عَلَی ہَذَا فَذَہَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ ہَذَا أُبَيٌّ فَقَالَ أُبَيٌّ يَا عُمَرُ لَا تَكُنْ عَذَابًا عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ
جناب ابوبردہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور تین بار اجازت مانگی اور کہا: ابوموسیٰ اجازت چاہتا ہے۔اشعری اجازت چاہتا ہے۔عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ اشعری) اجازت چاہتا ہے۔مگر اجازت نہ ملی تو یہ واپس ہو لیے۔چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو پیچھے سے بلوایا کہ واپس کیوں جا رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’اجازت تین بار مانگو،اگر مل جائے تو بہتر ورنہ واپس ہو جاؤ۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے بیان پر مجھے گواہ پیش کرو (کہ فی الواقع یہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے) تو وہ گئے اور واپس آئے اور کہا: یہ ابی رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں۔تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے عذاب نہ بنیں۔تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے لیے عذاب نہیں ہوں۔