Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5210 (سنن أبي داود)

[5210]حسن

وللحدیث شاھد عند الطبراني فی الکبیر (3/ 82، 83 ح 2730 وسندہ حسن) مشکوۃ المصابیح (4648)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الْجُدِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ أَبُو دَاوُد رَفَعَہُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ يُجْزِئُ عَنْ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُہُمْ وَيُجْزِئُ عَنْ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُہُمْ

امیرالمؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے شیخ حسن بن علی نے اس روایت کو مرفوع ذکر کیا،فرمایا کہ ایک جماعت گزر رہی ہو تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کہہ دینا کافی ہے۔اور بیٹھے ہوئے (لوگوں) میں سے کوئی ایک جواب دیدے تو کافی ہے۔