Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5214 (سنن أبي داود)

[5214] إسنادہ ضعیف

أیوب بن بشیر بن کعب مستور (تقریب: 604) ورجل من عنزۃ مجہول کما قال المنذري (عون المعبود 522/4)

انوار الصحیفہ ص 180

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ أَنَّہُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ حَيْثُ سُيِّرَ مِنْ الشَّامِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ إِذًا أُخْبِرُكَ بِہِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا قُلْتُ إِنَّہُ لَيْسَ بِسِرٍّ ہَلْ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوہُ قَالَ مَا لَقِيتُہُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَہْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّہُ أَرْسَلَ لِي فَأَتَيْتُہُ وَہُوَ عَلَی سَرِيرِہِ فَالْتَزَمَنِي فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ

جناب ایوب بن بشیر بن کعب عدوی،بنو عنزہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا: جبکہ انہیں شام سے روانہ کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں آپ سے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث دریافت کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا: اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں بتا دوں گا۔میں نے کہا: کوئی راز کی بات نہیں ہے۔آپ لوگ جب رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرتے تھے تو کیا رسول اللہ ﷺ تم لوگوں سے مصافحہ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں جب بھی آپ ﷺ سے ملا،آپ ﷺ نے مجھ سے مصافحہ فرمایا۔اور ایک دن آپ نے مجھے بلوایا،مگر میں گھر میں نہیں تھا۔جب میں واپس آیا تو مجھے آپ ﷺ کے بلاوے کا بتایا گیا۔میں آپ ﷺ کی خدمت میں پہنچا۔آپ ﷺ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے۔تو آپ ﷺ نے مجھ سے معانقہ فرمایا اور یہ (میرے لیے) عمدہ،بہت عمدہ بات تھی۔