Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 5217 (سنن أبي داود)

[5217]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (4689)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَہَ سَمْتًا وَہَدْيًا وَدَلًّا وَقَالَ الْحَسَنُ حَدِيثًا وَكَلَامًا وَلَمْ يَذْكُرْ الْحَسَنُ السَّمْتَ وَالْہَدْيَ وَالدَّلَّ بِرَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْ فَاطِمَةَ كَرَّمَ اللہُ وَجْہَہَا كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْہِ قَامَ إِلَيْہَا فَأَخَذَ بِيَدِہَا وَقَبَّلَہَا وَأَجْلَسَہَا فِي مَجْلِسِہِ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْہَا قَامَتْ إِلَيْہِ فَأَخَذَتْ بِيَدِہِ فَقَبَّلَتْہُ وَأَجْلَسَتْہُ فِي مَجْلِسِہَا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کسی کو نہیں پایا کہ وہ اپنی عادات،چال چلن اور بات چیت میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے مشابہ ہو۔حسن بن علی کی روایت میں ((حدیثا وکلاما)) کے لفظ وارد ہیں۔((السمت والہدی والدل)) کے الفاظ نہیں ہیں۔جب وہ آپ کے ہاں آتیں تو آپ ﷺ اٹھ کر ان کی طرف بڑھتے،ان کا ہاتھ پکڑتے،بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے اور (اسی طرح) جب آپ ان کے ہاں جاتے تو وہ اٹھ کر آپ ﷺ کی طرف بڑھتیں،آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑتیں بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھا دیتیں۔‘‘