Sunan Abi Dawood Hadith 5243 (سنن أبي داود)
[5243]صحیح
انظر الحدیث السابق (1285)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ وَہَذَا لَفْظُہُ وَہُوَ أَتَمُّ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ يُصْبِحُ عَلَی كُلِّ سُلَامَی مِنْ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ تَسْلِيمُہُ عَلَی مَنْ لَقِيَ صَدَقَةٌ وَأَمْرُہُ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَہْيُہُ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتُہُ الْأَذَی عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَبُضْعَتُہُ أَہْلَہُ صَدَقَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللہِ يَأْتِي شَہْوَةً وَتَكُونُ لَہُ صَدَقَةٌ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ وَضَعَہَا فِي غَيْرِ حَقِّہَا أَكَانَ يَأْثَمُ قَالَ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ كُلِّہِ رَكْعَتَانِ مِنْ الضُّحَی قَالَ أَبُو دَاوُد لَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ الْأَمْرَ وَالنَّہْيَ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُقَيْلٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِیِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ بِہَذَا الْحَدِيثِ وَذَكَرَ النَّبِيَّ ﷺ فِي وَسْطِہِ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’صبح ہوتی ہے اور آدم زاد کے جوڑ جوڑ پر صدقہ واجب ہو چکا ہوتا ہے۔اس کا اپنے ملنے والے کو سلام کہنا صدقہ ہے،کسی کو نیکی کی بات بتانا صدقہ ہے،برائی سے منع کرنا صدقہ ہے،راستے سے تکلیف دہ چیز دور کر دینا صدقہ ہے،بیوی سے صحبت کرنا صدقہ ہے۔‘‘ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اپنی شہوت پوری کرے اور وہ اس کے لیے صدقہ بنے یہ کیونکر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’بتاؤ اگر وہ حرام میں یہ کام کرے تو کیا گناہ گار نہیں ہو گا؟‘‘ (اس کے بالمقابل حلال سے اپنی خواہش پوری کرنا ثواب اور صدقہ ہوا)۔آپ ﷺ نے فرمایا ’’ان سب کاموں سے اس کے لیے چاشت کی دو رکعتیں کفایت کر جاتی ہیں۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد (حماد بن زید) نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر نہیں کیا۔