Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 67 (سنن أبي داود)

[67]حسن

محمد بن اسحاق بن یسار صرح بالسماع عند احمد (3/ 86)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَی الْحَرَّانِيَّانِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَدَوِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ وَہُوَ يُقَالُ لَہُ إِنَّہُ يُسْتَقَی لَكَ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَہِيَ بِئْرٌ يُلْقَی فِيہَا لُحُومُ الْكِلَابِ وَالْمَحَايِضُ وَعَذِرُ النَّاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ الْمَاءَ طَہُورٌ لَا يُنَجِّسُہُ شَيْءٌ قَالَ أَبُو دَاوُد و سَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ قَالَ سَأَلْتُ قَيِّمَ بِئْرِ بُضَاعَةَ عَنْ عُمْقِہَا قَالَ أَكْثَرُ مَا يَكُونُ فِيہَا الْمَاءُ إِلَی الْعَانَةِ قُلْتُ فَإِذَا نَقَصَ قَالَ دُونَ الْعَوْرَةِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدَّرْتُ أَنَا بِئْرَ بُضَاعَةَ بِرِدَائِي مَدَدْتُہُ عَلَيْہَا ثُمَّ ذَرَعْتُہُ فَإِذَا عَرْضُہَا سِتَّةُ أَذْرُعٍ وَسَأَلْتُ الَّذِي فَتَحَ لِي بَابَ الْبُسْتَانِ فَأَدْخَلَنِي إِلَيْہِ ہَلْ غُيِّرَ بِنَاؤُہَا عَمَّا كَانَتْ عَلَيْہِ قَالَ لَا وَرَأَيْتُ فِيہَا مَاءً مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ ﷺ کو بتایا جا رہا تھا کہ آپ کے لیے جو پانی لایا جاتا ہے وہ بضاعہ کے کنویں کا ہوتا ہے،حالانکہ اس میں کتوں کا گوشت،حیض کے چیتھڑے اور انسانوں کی غلاظت تک ڈال دی جاتی ہے،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’پانی پاک ہے اسے کوئی شے ناپاک نہیں کرتی۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قتیبہ بن سعید سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے اس کنویں کے محافظ سے اس کی گہرائی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا پانی زیادہ سے زیادہ پیڑو (ناف کے نچلے حصے) تک آتا ہے۔میں نے کہا اور جب کم ہو تو؟ اس نے کہا کہ شرمگاہ سے کم (یعنی رانوں تک)۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ذاتی طور پر خود اپنی چادر اس کنویں پر پھیلا کر اسے ناپا تو اس کا قطر چھ ہاتھ تھا اور میں نے کے محافظ سے پوچھا،جس نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا اور کنواں دکھلایا تھا،کہ آیا اس کی بنا میں دور نبوی سے کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟ تو اس نے کہا: نہیں اور میں نے اس کا پانی دیکھا تو اس کا رنگ بدلا ہوا تھا۔