Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 74 (سنن أبي داود)

[74]صحیح

صحیح مسلم (280)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ ابْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا لَہُمْ وَلَہَا فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ وَقَالَ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوہُ سَبْعَ مِرَارٍ وَالثَّامِنَةُ عَفِّرُوہُ بِالتُّرَابِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَہَكَذَا قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ

سیدنا (عبداللہ) ابن مغفل (مزنی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک بار) کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا مگر اس کے بعد فرمایا ’’لوگوں کو ان کے قتل کی ضرورت کیا ہے؟ اور ان کتوں کا قصور کیا ہے؟‘‘ پھر آپ ﷺ نے شکار اور بکریوں (وغیرہ) کی حفاظت کے لیے ان کے رکھنے کی اجازت دے دی اور فرمایا ’’جب کتا برتن میں منہ مار جائے تو اسے سات بار دھو اور آٹھویں بار مٹی سے مانجو۔‘‘ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کہا۔