Sheikh Zubair Alizai

Sunan Abi Dawood Hadith 96 (سنن أبي داود)

[96]إسنادہ صحیح

ابو نعامہ ھو قیس بن عبایہ، سمع ابن عبداللہ بن مغفل مشکوۃ المصابیح (418)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ مُغَفَّلٍ سَمِعَ ابْنَہُ يَقُولُ اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُہَا فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ سَلْ اللہَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِہِ مِنْ النَّارِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِنَّہُ سَيَكُونُ فِي ہَذِہِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الطَّہُورِ وَالدُّعَاءِ

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے (ایک بار) اپنے صاحبزادے کو دعا کرتے سنا (جو یوں کہہ رہا تھا) اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب میں جنت میں داخل ہوں تو مجھے اس کی دائیں جانب سفید محل عنایت ہو۔اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹا! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوزخ سے پناہ مانگو۔بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے،آپ ﷺ فرماتے تھے میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو طہارت میں اور دعا مانگنے میں حد سے زیادہ مبالغہ کریں گے۔

قال معاذ علی زئی: قال ابن حجر العسقلانی: ’’واسم الجريري سعيد بن إياس وكان ممن اختلط لكن سماع حماد بن سلمة منہ قبل اختلاطہ‘‘ (الاملی المطلقہ: 87)