Sunan ibn Majah Hadith 1010 (سنن ابن ماجہ)
[1010] إسنادہ ضعیف
أبو إسحاق عنعن
وأصل الحدیث متفق علیہ بغیر ھذا السیاق (البخاري: 40،مسلم: 525)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَاءِ قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَہْرًا وَصُرِفَتْ الْقِبْلَةُ إِلَی الْكَعْبَةِ بَعْدَ دُخُولِہِ إِلَی الْمَدِينَةِ بِشَہْرَيْنِ وَكَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا صَلَّی إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَكْثَرَ تَقَلُّبَ وَجْہِہِ فِي السَّمَاءِ وَعَلِمَ اللہُ مِنْ قَلْبِ نَبِيِّہِ ﷺ أَنَّہُ يَہْوَی الْكَعْبَةَ فَصَعِدَ جِبْرِيلُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُتْبِعُہُ بَصَرَہُ وَہُوَ يَصْعَدُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ يَنْظُرُ مَا يَأْتِيہِ بِہِ فَأَنْزَلَ اللہُ قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِكَ فِي السَّمَاءِ الْآيَةَ فَأَتَانَا آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ صُرِفَتْ إِلَی الْكَعْبَةِ وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسٍ وَنَحْنُ رُكُوعٌ فَتَحَوَّلْنَا فَبَنَيْنَا عَلَی مَا مَضَی مِنْ صَلَاتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَا جِبْرِيلُ كَيْفَ حَالُنَا فِي صَلَاتِنَا إِلَی بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا كَانَ اللہُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ(البقرۃ:143
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کیں،پھر آپ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے دو ماہ بعد کعبہ کو قبلہ مقرر کر دیا گیا تھا۔رسول اللہ ﷺ جب بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے تو اکثر آسمان کی طرف چہرہ مبارک اٹھاتے۔اللہ تعالیٰ کو اپنے نبی کے دل کی کیفیت معلوم تھی کہ وہ کعبہ شریف(کو قبلہ بنانے) کی خواہش رکھتے ہیں۔جبریل علیہ السلام (آسمان کی طرف) بلند ہوئے تو جب وہ آسمان اور زمین کے درمیان بلند ہوتے جا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ یہ معلوم کرنے کی خواہش رکھتے تھے کہ جبریل علیہ السلام کیا وحی لے کر نازل ہوں گے۔(آخر کار) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:(قَدْ نَرٰی تَـقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ) ’’ہم آپ کے چہرے کو بار ابر آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔۔۔۔‘‘ہمارے پاس ایک آدمی آیا،اس نے کہا: قبلہ(بیت المقدس سے) کعبہ کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ہم نے دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے ادا کی تھیں(اور ابھی نماز مکمل نہیں ہوئی تھی) ہم رکوع میں تھے(جب یہ خبر ملی) ہم نے (فوراً) رخ پھیر لیا اور جو نماز پڑھی جا چکی تھی،اس پر باقی نماز کی بنا کر لی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے جبریل! ہماری بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی ہوئی نمازوں کا کیا حال ہوگا؟‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:(وما کان اللہ لیضیع ایمانکم) ’’اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان(تہماری نمازیں) ضائع نہیں کریگا۔‘‘