Sunan ibn Majah Hadith 1062 (سنن ابن ماجہ)
[1062] إسنادہ ضعیف
حارثۃ: ضعیف
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْہِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّی اللہَ وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ فَيُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ يَدَيْہِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْہِ ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَضَعُ يَدَيْہِ عَلَی رُكْبَتَيْہِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْہِ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَہُ فَيُقِيمُ صُلْبَہُ وَيَقُومُ قِيَامًا ہُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَضَعُ يَدَيْہِ تُجَاہَ الْقِبْلَةِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْہِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَہُ فَيَجْلِسُ عَلَی قَدَمِہِ الْيُسْرَی وَيَنْصِبُ الْيُمْنَی وَيَكْرَہُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَی شِقِّہِ الْأَيْسَرِ
سیدنا عمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: رسول اللہ ﷺ کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ جب وضو کرتے وقت برتن میں ہاتھ ڈالتے تو اللہ کا نام لیتے(بسم اللہ پڑھتے) اور اچھی طرح کامل وضو کرتے،پھر قبلے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جاتے۔پھر تکبیر (تحریمہ) کہتے اور کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے،پھر رکوع کرتے تو گٹھنوں پر ہاتھ رکھتے،اور بازوؤں کو (پہلوؤں سے) الگ رکھتے،پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنی کمر مبارک سیدھی کرلیتے اور قومے میں کھڑے رہتے،جو تمہارے قومے سے تھوڑا سا طویل ہوتا تھا۔پھر سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ قبلے کی طرف رکھتے اور میں نے دیکھا ہے کہ جہاں تک ہو سکتا بازوؤں کو (پہلوؤں سے) دور رکھتے،پھر سر اٹھاتے اور بائیں قدم پر بیٹھ جاتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور بائیں پہلو پر جھکنا پسند نہیں فرماتے تھے۔