Sunan ibn Majah Hadith 1085 (سنن ابن ماجہ)

[1085] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (1047،1531) نسائي (1375) وانظر الحدیث الآتي (1636)

عبد الرحمٰن ھو ابن یزید بن تمیم،انظر سنن أبي داود (1047) وأخطأ من زعم بأنہ ابن یزید بن جابر فالسند معلل

انوار الصحیفہ ص 416

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيہِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيہِ النَّفْخَةُ وَفِيہِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فِيہِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ يَعْنِي بَلِيتَ فَقَالَ إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا سب سے افضل دن جمعے کا دن ہے۔اس میں آدم  کو پیدا کیا گیا ہے،اسی دن صور میں پھونک ماری جائے گی،اسی میں بے ہوشی طاری ہوگی۔لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو،تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب آپ کا جسم مبارک خاک ہو جائے گا تب کس طرح ہمارا درود آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔‘‘