Sunan ibn Majah Hadith 1191 (سنن ابن ماجہ)
[1191]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ ہِشَامٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْتِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَتْ كُنَّا نُعِدُّ لَہُ سِوَاكَہُ وَطَہُورَہُ فَيَبْعَثُہُ اللہُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَہُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيہَا إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَدْعُو رَبَّہُ فَيَذْكُرُ اللہَ وَيَحْمَدُہُ وَيَدْعُوہُ ثُمَّ يَنْہَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللہَ وَيَحْمَدُہُ وَيَدْعُو رَبَّہُ وَيُصَلِّي عَلَی نَبِيِّہِ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَہُوَ قَاعِدٌ فَتِلْكَ إِحْدَی عَشْرَةَ رَكْعَةً فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ
سیدنا سعد بن ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے،ا نہوں نے فرمایا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتے ہوئے کہا: ام المومنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز وتر(تہجد) کے متعلق ارشاد فرمایئے۔انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک اور(وضو کے لیے) پانی تیار رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ رات کے جس حصے میں نبی ﷺ کو اٹھانا چاہتا،اٹھادیتا،آپ مسواک کرتے،وضو کرتے،پھر نو رکعت نماز پڑھتے،اس میں صرف آٹھویں رکعت پر(تشہد کے لئے) بیٹھتے تو اپنے رب سے دعائیں کرتے۔(یعنی) اللہ کا ذکر کرتے،اس کی تعریف فرمائے،اور دعائیں پڑھتے،پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے۔کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے،پھر (تشہد میں) بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتےاس کی تعریفیں کرتے،رب سے دعائیں مانگتے،اور اس کے نبی پر درود پڑھتے،پھر(قدرے بلند آواز سے) سلام پھیرتے جو ہمیں سن جائے،پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں۔جب رسول اللہ ﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ سات وتر پڑھتے تھے اور سلام کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔