Sunan ibn Majah Hadith 1235 (سنن ابن ماجہ)
[1235] إسنادہ ضعیف
أبو إسحاق عنعن
وللحدیث شاہد ضعیف عند أحمد (209/1)
والخبر مخالف لحدیث البخاري (687)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مَرَضَہُ الَّذِي مَاتَ فِيہِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللہِ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ ادْعُوہُ قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللہِ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ قَالَ ادْعُوہُ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللہِ نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ قَالَ نَعَمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ رَأْسَہُ فَنَظَرَ فَسَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُہُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ حَصِرٌ وَمَتَی لَا يَرَاكَ يَبْكِي وَالنَّاسُ يَبْكُونَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ فَوَجَدَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي نَفْسِہِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُہَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاہُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا رَآہُ النَّاسُ سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ فَذَہَبَ لِيَسْتَأْخِرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْہِ النَّبِيُّ ﷺ أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِہِ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ مِنْ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَكِيعٌ وَكَذَا السُّنَّةُ قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي مَرَضِہِ ذَلِكَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ اس بیماری میں تھے جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے۔نبی ﷺ نے فرمایا: ’’علی کو بلا۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابو بکر کو بلا لیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بلا لو۔‘‘ سیدہ حفصہ نے عرض کیا: عمر کو بلا لیں؟ فرمایا: ’’بلا لو۔‘‘ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! عباس رضی اللہ عنہ کو بلا لیں؟ فرمایا: ’’ہاں۔‘‘جب یہ حضرات جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے سر مبارک اٹھا کر دیا اور خاموش ہو گئے۔عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اٹھ جاؤ۔اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو نماز کی اطلاع دینے حاضر ہوئے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ابو بکر کو حکم دو لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو بکر رقیق القلب اور کم گو ہیں جب وہ آپ کو (امامت کے لیے) موجود نہ پائیں گے تو رو پڑیں گے،(اس پر) لوگ بھی(آپ کو یاد کر کے غم زدہ ہو جائیں گے اور) رونے لگیں گے۔اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیں (تو بہتر ہوگا) آخر ابو بکر رضی اللہ عنہ (گھر سے) باہر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔اس کے بعد(ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے افاقہ محسوس کیا تو دو مردوں کے سہارے (مسجد کی طرف) روانہ ہوئے۔آپ کے قدم مبارک (شدتِ ضعف کی وجہ سے) زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے۔صحابہ نے جب رسول اللہ ﷺ (مسجد میں تشریف لاتے) دیکھا تو سبحان اللہ کہہ کر ابو بکر رضی اللہ عنہ کو متنبہ کیا۔وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی ﷺ انہیں اشارے سے فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہو،پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ان کے دائیں طرف بیٹھ گئے۔ابو بکر کھڑے رہے،چنانچہ ابو بکر نبی ﷺ کی اقتدار کر رہے تھے اور (دوسری تمام) لوگ ابو بکر کی اقتدار کر رہے تھے۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں ابو بکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے۔جناب رکیو نے فرمایا: یہی سنت ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی بیماری کے دوران رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی۔