Sunan ibn Majah Hadith 1251 (سنن ابن ماجہ)
[1251] إسنادہ ضعیف
نسائي (585) وانظر الحدیث الآتي (1364)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ فَقُلْتُ ہَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَحَبُّ إِلَی اللہِ مِنْ أُخْرَی قَالَ نَعَمْ جَوْفُ اللَّيْلِ الْأَوْسَطُ فَصَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّی يَطْلُعَ الصُّبْحُ ثُمَّ انْتَہِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَمَا دَامَتْ كَأَنَّہَا حَجَفَةٌ حَتَّی تُبَشْبِشَ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّی يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَی ظِلِّہِ ثُمَّ انْتَہِ حَتَّی تَزِيغَ الشَّمْسُ فَإِنَّ جَہَنَّمَ تُسْجَرُ نِصْفَ النَّہَارِ ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ انْتَہِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّہَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا: کیا کوئی وقت اللہ کو دوسرے اوقات سے زیادہ پیارا بھی ہوتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں،رات کا درمیانی حصہ،تم جب تک چاہو نماز(تہجد) پڑھو،حتی کہ صبح صادق طلوع ہو جائے پھر رک جاؤ حتی کہ سورج طلوع ہو جائے۔جب تک وہ اس طرح (نظر آتا) رہے جیسے ڈھال ہوتی ہے حتی کہ روشنی ہو جائے۔پھر جتنی چاہو نماز پڑھو حتی کہ ستون اپنے سائے پر قائم ہو جائے پھر (نماز سے) پرہیز کرو حتی کہ سورج ڈھل جائے کیوں کہ دوپہر کو جہنم دہکائی جاتی ہے،پھر جتنی چاہو نماز پڑھو حتی کہ عصر کی نماز پڑھ لو۔پھر(نماز سے) رک رہو حتی کہ سورج غروب ہو جائے کیوں کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔‘‘